gtag('config', 'AW-10842508643'); ہم بستری کے آداب

ہم بستری کے آداب

 



مبشرت میا بیوی  کا حق وہ  ،  
_ جو مرد عورت شریعت نکاح کے زاریے شہر بیوی ہو گئے، مبشرت کرنا (ہم بستری) نہ سرف یہ ایک دوسرے کا حق وہ بالکی نکاح کا بنیادی مقصود ہی ہے یہ کہ حلال طریقہ ہے سے مرد کو عورت، نا جائز شہوت رانائی سے بچ جائے، حلال اولاد ادا ہو، کیا ترہ نسلے انسان آگے بڑھے،
_زنکاری اور گلت طارقے سے شہوت رانائی کے راستے بند ہو تکی صالح پاکیزہ مشرا تشکیل پائے، بے راہ روی، آوارگی سے انسان مشرا پاک رہے،
Haiwanaat Kï Nasl Bhi Age Badti He Lekin Shariyat E Mutahara Ne Haya Ka Paband to Nahi Kiya Lekin Aam Haiwanaat Kï fitrat me Allah Ta'ala ne ye baat rakh dï k apni maada ko doosre naro se hifazat ka intezam ghinzeer he jaanwar ke wangi ,
_شریعت مطہرہ نی انسان کو اسکا بھی پابند کیا وہ کے ہم بستری کے عمل کے دوراں بھی شرم اور حیا کے نظام کا پابند رہے، اسکی کچھ قائد اور ہدود مقرار کیا ہین کے دائرے کے امل کے انتظار میں صاب بھی حاصل ہوگا، جو اولاد ہوگی، و بھی بھی ہوا، مٹی اور فارمبردار ہوگی
Hum کی  Bistari سے Ke وقت پردہ  ،،،   
_رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ برہانہ (ننگے) ہونے سے اجتناب (بچنا) کرو آگرچے تنھائ کیوں نہ ہو،
*_کیوکی پڑھنا اور اپنی بیوی سے مذاق کے فرق کے الواہ تمہارے ساتھ ہر وقت وہ (فرشتے) ہوتے ہیں، (جو تمہارے اعمال لکھنے پر مامور ہی نہیں)، لہزا ان (فرشتو) سے ہوا کرنا تزیم کرو”،
ReF-┐ ترمذی
_ تو اس رویت سے مالوم ہوا کے ہم بستری کی حالت میں ستار کھولنے کی عزت ہے، تہم انسان کے ساتھ کچھ فرشتے ہوتے ہیں وہ جو آگرچے ہم وقت انسان سے الگ ہو جاتے ہیں، ہم قریب ہوتے ہیں بسطاری کے وقت کوئی نیکی یا برائی کرے اسے سوال یا گناہ بھی لکھتے ہیں آپ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتوں کے اکرام کا حکم فرمانا،
_ لحظہ بلکل برہانہ ہوکر ہم بستری نہ کرے بلکی کوئی چادر اپنے اوپر لے لی جائے، یہ سورت شرم و حیا کے زیدہ مناصب وہ،
_ ایک دوسری رویت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ ( جماع کے وقت ) وحی جانوارو کے ترہ ننگے نہ ہونا "،
حوالہ ┐ غنیۃ الطالبین، 98
  ╨─
✿ ☞  جماع سے پہلے مسنون دعا  ،،،    
_ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمادیا
کہ " جب بیوی سے ہمبستری کا ارادہ کرے تو پہلے تم دعا پڑھے :-
بِسْمِ اللهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْـتَنَا
* == " Bismillahi ، سے Allahumma دعا پڑھے-SH-shaytaana ، و jannibi-SH-shaytaana ما razaqtana "
*__یہ دعا کے احتمام کی برکت سے اولاد شیطان کے شر سے محفوظ رہے گی،""
ReF- *صحیح بخاری،
_ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ نہ حضرت امام مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے اسکی شرح میں نقال کیا وہ،
"*_جو شخس ہمبستری کے وقت حدیس میں مظلوم دعا نہیں پڑھتا شیطان اسے آلا تناسل کے ساتھ لپیٹ جاتا ہے اور ساتھ شریک ہو جاتا ہے"
*_ReF-┐فتح الباری، 2/92
اور جس وقت انجال ہو تو دل میں یہ دعا پڑھے :-
* _ " سے Allahumma لا Taja'al Lish کی Shaytaane فائی-M-Razaqatni سے Nasi-BA "
*_یانی "یا اللہ! کیا بچتا ہے میں جو اپنے ہمارے لیے نصیب کرے شیطان کے لیے ہسا نہ بنا،"
*_ ReF-┐حسنِ حسین صفا 165،
╨────────────────────❥
Z ☞  سے Shabe Zufaaf  (  سے Pehli Raat کی  ) KI دعا  ،   
╥────────────────────❥
║✿ …
⚀ _رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمادیا کے،
*_شادی کی پہلی رات دلہن کے پیشانی کے بال پکڑ کر یہ دعا پڑھے :--
*_اللّٰہُمَّ اِنَّ اَسْلَوْکَ خَیْرًا وَخَیْرًا ما جبلتھا الٰہی و اعزوبیکا من شریر ہا و شری ما جبلتہ الٰہی،
*_ReF-┐مشکاۃ شریف، 1/210
  ╨────────────────────❥
✿ ☞ Pakhana سے Ke مقام مجھے Jima'a کارنا حرام وہ
─────────❥
║✿ …
_اپنی مانکوہا (بیوی) کے ساتھ ہمبستری کرنا سرف شرمگاہ میں حلال وہ،پچھے کے راستے سے یہ امل شرعان حرام وہ ہے، فی حدیث شریف میں لاانت وعیاد ہوئی ہے،
_ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
*_ جو شُخس اپنی عورت کا مقدّد (پکھنا کا مقام) میں برے فضلی کرے وو ملون وہ"
ReF-┐مشقات شریف،
 
  2/276 ╨────────────────────❥
✿ ☞  Haiz  وی  نفاس اس سے Ke  ڈنو مجھے  Hambistari  ،، 
╥────────────────────❥
║✿ …
_ حیز بنام نفاس کی حلت میں عورت سے صحبت کرنا حرام وہ، بڑا گنا وہ، اس سے بچنا لازم وہ، زروی وہ،
_ کیوکی حدیس میں ہے فی واعد وارد ہوئی وہ، اگر کوئی گلتی سے ایسا کر بیت سے توبہ کرنا واجب ہے،
_ اور حلتے ہیں مجھے صحبت کرنے کی وجہ سے صدقہ دینا کا بھی حکم آیا ہے، توبہ و استغفار کے ساتھ صدقہ خیرات بھی کیا جائے،
    ReF-┐Ba-Hawala - مشکاۃ، رواہ ترمذی، ابن ماجہ
* __ (اسکے علوا) ایام حیث میں عورت کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا جایز وہ، اسکے ساتھ اٹھانا، بیتنا، لیٹنا بھی جایز وہ
  ╨───────────────────────── ?
✿ ☞  ڈکشنری Miya Bivi  سے Ko  سے Ek Doosre KI Sharmgah Dekhna ،،،،،     
╥────────────────────❥
║✿ …
_ علما نے جماع کے ادب میں سے بھی لکھا وہ کے میاں بیوی ایک دوسرے کے شرمگاہ کو نہ دیکھے،
*_ReF-┐اشرف الاحکام
_ باقی دیکھنا شرعان نا جائز نہیں بلکی جائز وہ بس شرم و حیا کے تقاضے کے خلاف وہ
بیوی کی شرمگاہ کا بوسہ دینا،
_ جوشے محبت میں بیوی کے جسم کے مختلیف ہسو کا بوسہ لیا جاتا ہے،لیکن شرمگاہ کا بوسہ شران جائز نہیں، یہ جانوارو کا فعل (حرکت) وہ،
_ البتّا ہاتھ لگنے سے گنزائیش وہ، لِہزا جوش فی قابُو رکھے اور ہے (نا جائیز حرکت) سے بچے،
*_ریف العالمگیری، 5/372 v احسن
  الفتاوی ╨─────────────────────────
✿ ☞  مبشرت  (  ہمبستری  ) سے پہلے بوسو کنار  ،  
╥────────────────────❥
║✿ …
_ جب شہر مبشرت کا ارادہ کرے تو مبشرت سے پہلے بیوی کو مانوس کرے، بوسو کنار (گلے لگانا و چومنا) جس تراہ ہو کے استعمال بھی مبشرت کے لیے تیار کرے، اسکے بیگر سہبت شورو نہ کرے،
_ Neez Sohbat ke Waqt Iska Bhi Khayal Rahe K Foran Aurat Se Juda Na Ho Balki Uske Shikam Ser Hone Ka Intezar Kare Varna Orat Kï Tabiyat per Bura Asar Padta he
_ شہر اپنی بیوی سے دلگی، بوسو کنار، صحبت اور اس کے بعد گسلے جنابت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ ان تما م چیزو فی بھی اجرو سواب عطاء فرماتا ہے،
_ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے سنکر آرز کیا،"
*_یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم مشکورے اور فارمایا،
مرد اپنی عورت کا ہاتھ پکڑ کر اسکو مانوس کرتا ہے وہ اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے، جو مرد پیار سے اپنی عورت کے گلے میں ہاتھ ڈالتا ہے وہ اس کے حق میں داس (10) نیکیاں سے لکھی جاتی ہے، جب عورت وہ مباشرت کرتا ہے وہ دنیا بنام مفہوم سے بہتر ہوتی ہے۔
*_اور بےشک اللہ تعالیٰ فی فخر کرتا ہے اور فرشتو سے کہتا ہے میرے بندے کے تراف دیکھو کے ایسی سرد رات میں گسلے جنابت کے لیے اٹھتا ہے اور بات فی یقین رکھتا ہے وہ میرے اسکا رب ہے تم ہے بات فی گواہ رہو کے مجھے اسے بخش دیا،
*_ReF-┐فتاوی رحیمیہ بحوالہ غنیۃ الطالبین، 93-94
  ╨────────────────────❥
Iya ☞  Miya Bivi Kï Raaz Kï Baato  Ka  Batana Gunaah he ,      
╥────────────────────❥
║✿ …
⚀ _رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمادیا کے،
*_"قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی نظر میں وو شخس بھرا ہوگا جو اپنی بیوی سے ہمبستر ہو اور اس کے راز کا لوگو فی ظاہر کر دے،"
*_ ReF-┐رواہ مسلم،
یانی ہمبستری کے متلق جو باتے میاں بیوی کے آپس میں ہوں انکو لوگو کے سامنے بیان کرتے ہیں، یہ ہے تارہ عورت کے مخصوس صاف بیان کرے، ایسی تارہ آگر عورت مرد کے حکم ہی کے وو بھی


  گنا وہ، —──── ────────────────❥
☞ ✿  Humbistari سے Ke Baad کی Jald Gusl  کارنا،    
╥────────────────────❥
║✿ …
جماع سے فارگ ہوکر استنجا کر لیا جائے اور جسم فی لگی ہوئی نجاست (گندگی) کو دھو لیا جائے،
_ اگر دوبارہ سہبت کرنے کا ارادہ ہو تو آواز کر کے سہبت کرے، ورنا گسل کر لے، باگر گُسل کیا نہ سوئے،
_ اگر ازر ہو تو سب تک تک گسل میں تکیر ہو سکتی وہ ,لیکن خیال رہے کے سبھ کی نماز (نماز فجر) قضا نہ ہو،
نماز سے پہلے گُل سے فارِگ ہو کر وقت کے اندر نماز کا احتمام ہونا چاہئیے،
*_ ReF-┐بحوالہ---گبیات الطالبین 97-98 
  ╨─────────────────────────
✿ ☞ Aurt Bhivi KI سے Ijazat Ke کی Bager Azl  ( Sharmgah ایس ای بہار Inzaal  کارنا  )       
╥────────────────────❥
║✿ …
عورت (بیوی)
_ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اروتوں سے ازل کے متلق سوال کیا گیا تا ارشاد فرمانا کے،
*_ہر پانی (مانی) سے بچہ ادا نہیں ہوتا، اور جب اللہ طالٰہ، بچّہ تقلیق فرمانے کا ارادہ کرے تو کوئی تقویٰ ہمیں روک نہیں سکتا،( یانی ازل کرنے کا کوئی فایدہ نہیں)
*_رواہ مسلم، مشکاۃ 2/270
_ چونکی جماع عورت کا حق وہ، انصاف بہار کرنے سے اس کی حقتلفی ہوتی ہے، اسلیے ازل کرنے کے لیے اس سے اعجاز لینا چاہیئے، یہ امل حرام نہیں وہ، مانے ہمل دعوے کا استمال کرنے کا بھی یہ حکم،
*_ ReF-┐Ba-حوالہ حاشیہ مشکاۃ، باب مبشرات،
 
  2
☞ ✿  Chaar کی سے Maah سے Ke Baad کی  Hamal  Girana Qatl سے Ke حکم  مجھے اس نے     
_ موزودہ دور میں لڑکوں کو زندہ درگور (زمین میں گڑا خود کر دفن کرنا) نی "واد خفی" فارمایا وہ یانی خوفیہ طور پر بچے کو زندہ درگور کرنا،
Isqaate Hamal Kï Shara'i Haisiyat :-
_قطعہ نصل :- یانی ایسی سورت اختیاار کرنا جسکی وجاہ سے دائمی ٹی او آر فی قوّت تولید (بچہ ادا کرنے کی تقاضہ) ختم ہو جائے، یہ سورت بلا اتفاق حرام ہے،
_ مانے حمال ::-
*_ 1- عورت اتنی کامزور ہی کے ہمل بردشت نہیں کر سکتی،
*_ 2- عورت اپنے وطن سے دروازے کسی ایسے مقام پر وہ جہاں اسکا مستقیل قیام کا ارادہ نہیں اور سفر کسی ایسی زاریے سے وہ اس میں مہینو لگاتے ہو،
*_3- میا بیوی کے آپسی طلاقات اچھے نہ ہونے کی آواز سے الگ ہونے کا قصد (اندیشہ) ہو،
*_4-پہلے سے موجود بچے کی سہت خراب ہونے کا شیدید کھتر ہو،
*_5- یہ خطہ ہو کے فساد زمانے کے واجہ سے بچہ برا اخلاق اور والدن کے روسوے کا سباب ہوگا،
Agar koi es Farz ke tahat Hamal roke Jo Islami usoolo ke Khilaf he to uska Amal bilkul na-ja'iz hoga , Maslan Kasrate Alaad se Tangi e Rizq ka Khayal ho Ya Ye Waham Ho K Bachi Paida Hogi , To Aar Hogi
_ ہمل تہر جانے کے بعد چار ماہ غریب ہونے سے پہلے کسی زاریے سے اسے سچ کرنا، یہ سورت بلا ازر نہ جائز اور حرام وہ، البتہ باز ازر کی آواز سے اسکی گنزیش وہ، مسلان:-
*_ 1- ہمل کے واجہ سے عورت کا دودھ خوشک ہو گیا اور دوسرے طارق سے پہلے بچے کے پرورش کا انتحاب نامکمل ہو،
*_ 2- Koi Deendar Maahir Tabeeb (DOC) Aurat Ka Muaayna Karke Ye Keh De K Agar Hamal Baqi Raha To Aurat Kï Jaan Ya Koi Uzv Zaay Hone Ka Shadeed Khatra He,
Previous Post Next Post